یورپ کو آج کل توانائی کے بحران کا سامنا ہے اور وقت کے ساتھ یہ بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ تیل کے ذخائر کمی ہوتی جا رہی ہیں۔ قیمتوں بہت زیادہ اضافہ جبکہ صارفین کے بلوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو گیا ہے۔ روس کی جانب سے اب پہلے کی طرح گیس سپلائی جاری نہیں جیسے کے پہلے کی جاتی تھی۔
اس بحران نے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ یورپ جو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے زیادہ تر گیس اور آئل برآمد کرتا ہے، اس موسم سرما میں توانائی کے سنگین بحران سے کیسے بچا جائے اور خاص طور پر اگر سردی کی شدت میں زیادہ اضافہ ہو گیا یا موسم سرما معمول سے زیادہ طویل ہو گیا۔ تاہم 447 ملین نفوس پر آباد براعظم یورپ کو اس بحران سے نکلنے کے لیے کچھ حل تلاش کرنا پڑے گا۔
توانائی کی قیمتوں میں اضافہ۔
یورپ میں بجلی کی اس وقت قیمت 80 یورو فی میگاواٹ آور ہے جو کہ سن 2021 کے آغاز میں 19 یورو تھی۔ سن 2020 میں یہ قیمت صرف 4 یورو تھی۔ قیمتوں میں یہ اضافہ صارفین پر بھاری پڑ رہا ہے اور حکومتیں بھی پریشان ہیں کہ اس صورتحال کیسے نکلا جائے۔ یورپ کی گیس پائپ لائنز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ یورپ کو اس سال موسم سرما میں 5 سے دس فیصد زیادہ گیس برآمد کرنا پڑ سکتی ہے۔
بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے سپلائرز یورپ کا رخ کر رہے ہیں
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایشیا گیس سپلائی کرنے والے کچھ بحری جہاز یورپ ہونے والے قیمتوں میں اضافے کے بعد ایشیا کی طرف جانے کے بجائے یورپ کی طرف چل پڑے۔
یہ ڈیل اتنی پرکشش تھی کہ وہ اپنی ایشیائی صارفین کو سو فیصد ادائیگیاں واپس کرنے کو بھی تیار تھے۔ خاص طور پر لیکوی فائڈ نیچرل گیس یورپ پہنچائی گئی جو کہ اس براعظم کی ضروریات کے لیے تو ناکافی ہے لیکن توانائی کی کمی کے دوران انتہائی اہم ہے
روس کی گیس سپلائی میں کمی۔
روس کی سرکاری کمپنی گیس پروم نے پولینڈ اور یوکرائن سے گزرنے والی پائپ لائنوں کے ذریعے اس مرتبہ یورپ کو کم گیس فروخت کی ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق روس کی جانب سے یہ قدم جرمنی کو نورڈ سٹریم ٹو گیس پائپ لائن کو شروع کرانے کے لیے اس ملک پر دباؤ ڈالنے کی ایک حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ یہ پائپ لائن پولینڈ اور یوکرائن کو بائی پاس کرتے ہوئے سمندری راستے سے سیدھی جرمنی پہنچتی ہے۔ یوکرائن اس فیصلے سے ناراض ہے کیوں کہ روس کی سابقہ پائپ لائنوں کے ذریعے جو یوکرائن سے گزرتی ہیں وہ کافی معاوضہ کماتا ہے۔ نورڈ سٹریم سے یوکرائن کی آمدنی میں کمی آ جائے گی۔
مختصر مدت میں.
یورپی حکومتیں اس بحران کے اثرات سے نبٹنے کے لیے اپنے شہریوں کو نقد رقم کی ادائیگی کر رہی ہیں۔ صارفین کو سبسڈی فراہم کرنے میں سویڈن کی مثال تازہ ترین ہے۔سویڈن نے بجلی کی زیادہ قیمتوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے والے گھرانوں کو 661 ملین ڈالر کی امداد فراہم کی ہے۔
طویل مدتی حل.
اس مسئلے کا حل توانائی کے قابل تجدید منصوبوں میں زیادہ سرمایہ کاری ہے جیسے کہ ہوا اور شمسی توانائی پھر بھی حکام تسلیم کرتے ہیں کہ اگلے کئی برسوں میں گیس اور تیل ہی اہم کردار ادا کریں گے۔
Severe energy crisis in Europe
Europe is facing an energy crisis today and this crisis is getting worse with time. Oil reserves are dwindling. Prices have gone up a lot while consumer bills have also gone up substantially. Russia is no longer supplying gas as it used to.
The crisis has made Europe, which exports most of its energy needs gas and oil, wonder how to avoid a serious energy crisis this winter, especially if the severity of the cold. I overheated or had a longer winter than usual. However, the continent of Europe, inhabited by 447 million people, will have to find some solution to get out of this crisis.
Rising energy prices.
The price of electricity in Europe is currently 80 euros per megawatt hour, which was 19 euros at the beginning of 2021. In 2020, this price was only 4 euros. This increase in prices is weighing heavily on consumers and governments are also worried about how to get out of this situation. The European Gas Pipelines Association says that Europe may have to export 5 to 10 percent more gas this winter.
Due to rising prices, suppliers are turning to Europe
Analysts say that some ships supplying gas to Asia have moved to Europe instead of to Asia following the rise in prices to Europe.
The deal was so attractive that they were even willing to refund 100% of the payments to their Asian customers. In particular, liquefied natural gas was delivered to Europe, which is insufficient for the continent's needs but crucial during energy shortages.
Russia's gas supply cuts.
Russia's state-owned Gazprom has sold less gas to Europe this time through pipelines through Poland and Ukraine. According to some analysts, Russia's move could be a ploy to pressure Germany into starting the Nord Stream 2 gas pipeline. The pipeline goes directly to Germany by sea, bypassing Poland and Ukraine. Ukraine resents the decision because it earns substantial royalties from Russia's former pipelines that pass through Ukraine. Ukraine's revenue from Nord Stream will decrease.
In the short term.
European governments are paying their citizens in cash to deal with the effects of the crisis. Sweden's example of providing subsidies to consumers is the latest. Sweden has provided $661 million in aid to households most affected by high electricity prices.
Long term solutions.
The solution to this problem is more investment in renewable energy projects such as wind and solar, yet officials acknowledge that gas and oil will play a major role in the next several years.


0 تبصرے