وطن عزیز اس وقت سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہے متاثرہ علاقوں سے جو خبریں اور سوشل میڈیا پر جو تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں وہ بہت دردناک اور دل خراش ہیں۔

اس میں قدرتی آفت سے زیادہ حکمرانوں سیاسی جماعتوں اور ذمیدار اداروں کی لاپرواہی نے مزید اضافہ کر دیا ہے۔

پیشگی اطلاعات کے باوجود مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا گیا لوگوں اور مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔

یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جن اداروں کی یہ زمیداری ہے جن کو بر وقت اقدامات کرنے چاہئیں وہ حکمرانوں کے نوٹس لینے کا انتظار کیوں کرتے ہیں؟

بلوچستان میں جولائی کے پہلے ہفتے سے بارشوں کا سلسلہ جاری تھا لیکن یہ ہمارے حکمران اور پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف ایک دوسرے کو چور ڈاکو ثابت کرنے میں اپنی توانائیاں صرف کرتے رہے اور نہلے پہ دہلا اس ملک کے دو بڑے میڈیا گروپ جن کا یہ کام تھا کہ عوام اور حکمرانوں کی توجہ اس جانب مبذول کراتے جلتی پر تیل کا کام انجام دیتے رہے۔

 NDMA کیوں ڈزاسٹر سے پہلے حرکت میں نہیں آتا کیا یہ اس کے نام کا اثر ہے کہ پہلے ڈزاسٹر ہوجائے پھر مینج کریں گے؟

جو ہونا تھا وہ تو ہوگیا لیکن جو اب حالات ہونے والے ہیں وہ ان سے کہیں زیادہ بدتر ہو سکتے ہیں لاکھوں ایکڑ پر تیار فصلیں برباد مویشی بہ جانے سے لائیو اسٹاک کی صنعت تباہ ہوچکی ہیں اور اب بھی حکومت نے پیش بندی نہیں کی تو جو اس کے اثرات ہونگے اور جو خوراک کی کمی کا بحران پیدا ہونے والا ہے اسکے نتیجے میں مہنگائی میں ہوش ربا اضافہ ہوسکتا ہے۔

اس وقت ہمیں ضرورت ہے مربوط منصوبہ بندی کی جس کے لیے حکومتی اتحاد میں شامل تمام جماعتوں اور اپوزیشن کو بلخصوص پاکستان تحریک انصاف کو سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر مل بیٹھنا ہوگا کوئی کسی کو نظر انداز نہیں کر سکتا کیونکہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں وہی رولنگ پارٹی ہے۔

اس موقع پر فلاحی اداروں کا کردار بہت قابل تعریف ہے اور خاص طور پر الخدمت فاؤنڈیشن اور انکے رضاکار خراجِ تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے لالچ اور سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر صرف رضائے الٰہی کے لیے لوگوں کی مدد کی لیکن یہ اتنی بڑی تباہی ہے کہ فلاحی ادارے اس سے نہیں نمٹ سکتے۔

ضروری ہے کہ حکومت فلاحی تنظیموں کو بھی آن بورڈ لے اور انکے ساتھ امدادی سرگرمیوں میں تعاون کرے اور ان کے تجربے سے استفادہ حاصل کرکے عوام کو ریلیف فراہم کرے۔

اسکے ساتھ انفرادی اور اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کے ساتھ دعائیں کی جائیں کیونکہ وبائوں اور آفات کا کثرت سے آنا اس بات کی علامت ہے کہ اللہ ہم سے سخت ناراض ہے۔

اللہ پاک میری خطاؤں سے درگزر فرمائے اور ہم پر رحم فرمائے اور ہمارے حکمرانوں کو رہنمائی عطا فرمائے آمین۔